کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے
کلام: شکیل بدیوانی
کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہےروز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے
آپ للہ نہ دیکھا کریں آئینہ کبھیدل کا آ جانا بڑی بات نہیں ہوتی ہے
اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)
مہمان شاعر: شکیل بدیوانی
کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہےروز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے
آپ للہ نہ دیکھا کریں آئینہ کبھیدل کا آ جانا بڑی بات نہیں ہوتی ہے
ہر گوشۂ نظر میں سمائے ہوئے ہو تمجیسے کہ میرے سامنے آئے ہوئے ہو تم
میری نگاہ شوق پہ چھائے ہوئے ہو تمجلووں کو خود حجاب بنائے ہوئے ہو تم