لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیر
کلام: شکیل بدیوانی
لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیرزندگی دشوار ہے تیرے بغیر
دل کی بے تابی کا عالم کیا کہوںہر نفس تلوار ہے تیرے بغیر
اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)
مہمان شاعر: شکیل بدیوانی
لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیرزندگی دشوار ہے تیرے بغیر
دل کی بے تابی کا عالم کیا کہوںہر نفس تلوار ہے تیرے بغیر
دور ہیں وہ اور کتنی دورپھر بھی مری نظروں کے حضور
رنج و مصیبت جور و ستمآپ کی خاطر سب منظور