9 اشعار

رقاصۂ حیات سے

Raqqasa-e-Hayat Se

رقاصۂ حیات سے

«رقاصۂ حیات سے» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے سحر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

پھولوں پہ رقص اور نہ بہاروں پہ رقص کرگلزار ہست و بود میں خاروں پہ رقص کر

ہو کر جمود گلشن جنت سے بے نیازدوزخ کے بے پناہ شراروں پہ رقص کر

شمع سحر فسون تبسم، حیات گلفطرت کے ان عجیب نظاروں پہ رقص کر

تنظیم کائنات جنوں کی ہنسی اڑااجڑے ہوئے چمن کی بہاروں پہ رقص کر

سہمی ہوئی صدائے دل ناتواں نہ سنبہکی ہوئی نظر کے اشاروں پر رقص کر

جو مر کے جی رہے تھے تجھے ان سے کیا غرضتو اپنے عاشقوں کے مزاروں پہ رقص کر

ہر ہر ادا ہو روح کی گہرائیوں میں گمیوں رنگ و بو کی راہ گزاروں پہ رقص کر

تو اپنی دھن میں مست ہے تجھ کو بتائے کونتیری زمیں فلک ہے ستاروں پر رقص کر

اس طرح رقص کر کہ سراپا اثر ہو توکوئی نظر اٹھائے تو پیش نظر ہو تو

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں