9 اشعار

ہمیں تک رہ گیا قصہ ہمارا

hamin tak rah gaya qissa hamara

ہمیں تک رہ گیا قصہ ہماراکسی نے خط نہیں کھولا ہمارا

پڑھائی چل رہی ہے زندگی کیابھی اترا نہیں بستہ ہمارا

معافی اور اتنی سی خطا پرسزا سے کام چل جاتا ہمارا

کسی کو پھر بھی مہنگے لگ رہے تھےفقط سانسوں کا خرچہ تھا ہمارا

یہیں تک اس شکایت کو نہ سمجھوخدا تک جائے گا جھگڑا ہمارا

طرف داری نہیں کر پائے دل کیاکیلا پڑ گیا بندہ ہمارا

تعارف کیا کرا آئے کسی سےاسی کے ساتھ ہے سایہ ہمارا

نہیں تھے جشن یاد یار میں ہمسو گھر پر آ گیا حصہ ہمارا

ہمیں بھی چاہیے تنہائی شارقؔسمجھتا ہی نہیں سایہ ہمارا

— شارق کیفی