7 اشعار

آج اکٹھا کر کے عشق کے ماروں کو

aaj ikaTTha kar ke ishq ke maron ko

آج اکٹھا کر کے عشق کے ماروں کوگھیر لیا ہے ہم نے دنیا داروں کو

ساتھ کے سارے قیدی ایسا کہتے تھےہم نے بھی گھر مان لیا دیواروں کو

اچھے ہو کر لوٹ گئے سب گھر لیکنموت کا چہرہ یاد رہا بیماروں کو

دھار کو پرکھا زنگ کے دھبے صاف کیےپھر بیٹھک میں ٹانگ دیا تلواروں کو

جاؤ اپنے حصے کے تم عیش کروعشق میں ہم بھی بھول گئے تھے یاروں کو

میرے علاوہ کون جگانے آتا ہےپچھلے پہر کے سوئے ہوئے بازاروں کو

صبح کا مطلب صبح کا پہلا سگریٹ تھاوہ بھی اب لا حاصل ہے بیماروں کو

— شارق کیفی