6 اشعار

فرق تو پڑنا تھا یاری میں

nahin himmat to aisa kijiyega

فرق تو پڑنا تھا یاری میںاتنی لمبی بیماری میں

محفل کا کیا لطف اٹھائیںتھک جاتے ہیں تیاری میں

یہ بھی خود میں ایک سزا ہےاتنی دیر گرفتاری میں

حامی تھے ترتیب کے لیکنبھول گئے اپنی باری میں

اس سے بڑی مشکل کیا ہوگیمیرا خدا ہے دشواری میں

یوں بھی کم رسوائی ہوئی ہےاچھے تھے دنیاداری میں

— شارق کیفی