5 اشعار

ہشیاری کا مول چکاتا رہتا ہوں

hushyari ka mol chukata rahta hun

ہشیاری کا مول چکاتا رہتا ہوںنادانوں سے دھوکے کھاتا رہتا ہوں

لے آتا ہوں ہر رشتے کو جھگڑے تکپھر جھگڑے سے کام چلاتا رہتا ہوں

لشکر میں اک کام مرے ذمے بھی ہےسب کو گھر کی یاد دلاتا رہتا ہوں

دیکھو اس کو کب فرصت ہو ملنے کیجس کے لئے میں سال بچاتا رہتا ہوں

اچھی خاصی دنیا دیکھی ہے میں نےکمرے سے دالان میں آتا رہتا ہوں

— شارق کیفی