8 اشعار

آپ کو ایسے نہ کھونا تھا ہمیں

aapko aise na khona tha hamein

آپ کو ایسے نہ کھونا تھا ہمیںتھوڑا دنیا دار ہونا تھا ہمیں

حال پر ہنستے تھے جن کے آج تکاب انہیں کے ساتھ رونا تھا ہمیں

قبر بھی اس کی کہیں باقی نہ تھیجس کی بیماری کو ڈھونا تھا ہمیں

خود کشی کرنے تو ہم آئے نہ تھےپھر یہاں کس کو ڈبونا تھا ہمیں

یہ کوئی اتنی بڑی خواہش نہ تھیدیر تک اک روز سونا تھا ہمیں

بے سبب اس کو بہانہ دے دیاوقت سے تیار ہونا تھا ہمیں

آپ کے نخروں کو بھی دینا تھا وقتاور زمانے کا بھی ہونا تھا ہمیں

تو گیا تو رہ گیا وہ داغ بھیوہ جسے مل جل کے دھونا تھا ہمیں

— شارق کیفی