7 اشعار

سفر ہی کافی ہے عمریں گزارنے کے لئے

safar hi kafi hai umren guzarne ke liye

سفر ہی کافی ہے عمریں گزارنے کے لئےوہ کیوں بضد ہے مجھے پار اتارنے کے لئے

وہ جرم اتنا جو سنگین اس کو لگتا ہےکیا تھا میں نے کوئی پل گزارنے کے لئے

وہ ساری صلح پسندی وہ خاکساری سببہت ضروری تھا عزت سے ہارنے کے لئے

جھگڑ رہے تھے وہاں سب نئی رتوں کے امیںمرا پرانا کوئی روپ دھارنے کے لئے

تمام عمر رہا ہوں شکستہ کشتی پرمیں ناخداؤں کے احساں اتارنے کے لئے

اسی پہ وسعتیں کھلتی ہیں دشت و صحرا کیجسے کوئی بھی نہ آئے پکارنے کے لئے

اک اور بازی مجھے اس کے ساتھ کھیلنا ہےاسی کی طرح سلیقہ سے ہارنے کے لئے

— شارق کیفی