6 اشعار

یہ پتھر تو اک دن پگھل جائے گا

ye patthar to ek din pighal jaega

یہ پتھر تو اک دن پگھل جائے گاہمارا زمانہ نکل جائے گا

مجھے خود کشی پر نہ راضی کرومرا کام دنیا سے چل جائے گا

ترا گھر ہمیشہ رہے گا یہاںنگاہوں کا پہرہ بدل جائے گا

زمانہ کا بچھڑا ہوا یار بھیاگر اب رکے گا تو کھل جائے گا

یہی خط تجھے پھر سے بھیجیں گے ہممگر جب ترا حسن ڈھل جائے گا

وہی ہے دلاسہ وہی آس ہےبدل جائے گا سب بدل جائے گا

— شارق کیفی