9 اشعار

اب نہیں لوٹنا

ab nahin lauTna

میں بہت دور تھاجب پکارا گیا حاضری کے لئے

ڈاکٹرایک ٹھنڈا بدن

تیز بجلی کے جھٹکےاب مگر مجھ میں اس جسم کو

گرم کرنے کی کوئی بھی خواہش نہ تھیزندگی کٹ گئی

ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ رجسٹرکہ جس میں مرا نام موجود ہو

اور مری حاضری لگ سکےپر کسی نے پکارا نہیں میرا نام

نہیں لوٹنااب مجھے اس زمیں پر نہیں لوٹنا

حاضری کے بغیراس زمیں سے مرا لوٹنا ہی یہ ثابت کرے گا

کہ میں اک فرشتہ تھااور اس جہاں میں غلط آ گیا تھا

— شارق کیفی