7 اشعار

بھیڑ نہیں یہ آنکھیں ہیں

bhiD nahin ye aankhen hain

بھیڑ نہیں یہ آنکھیں ہیںاور ان آنکھوں میں

کسی کے چشمے کا نمبر بڑھ جاتا ہے تومیں دھندلا ہو جاتا ہوں

مجبوری ہے میریرشتے رکھنا کچھ اچھی آنکھوں سے

گرم ہاتھوں سےسچ تو یہ ہے

میرا ہونا ہی تب ثابت ہوتا ہے جبکوئی مجھ کو دیکھے

مجھ کو ہاتھ لگائےبھیڑ نہیں یہ وہ آنکھیں ہیں

جن سے ہوں میں

— شارق کیفی