8 اشعار

اچھا تو تم ایسے تھے

achchha to tum aise the

اچھا تو تم ایسے تھےدور سے کیسے لگتے تھے

ہاتھ تمہارے شال میں بھیکتنے ٹھنڈے رہتے تھے

سامنے سب کے اس سے ہمکھنچے کھنچے سے رہتے تھے

آنکھ کہیں پر ہوتی تھیبات کسی سے کرتے تھے

قربت کے ان لمحوں میںہم کچھ اور ہی ہوتے تھے

ساتھ میں رہ کر بھی اس سےچلتے وقت ہی ملتے تھے

اتنے بڑے ہو کے بھی ہمبچوں جیسا روتے تھے

جلد ہی اس کو بھول گئےاور بھی دھوکے کھانے تھے

— شارق کیفی