6 اشعار

یہ چپکے چپکے نہ تھمنے والی ہنسی تو دیکھو

ye chupke chupke na thamne wali hansi to dekho

یہ چپکے چپکے نہ تھمنے والی ہنسی تو دیکھووہ ساتھ ہے تو ذرا ہماری خوشی تو دیکھو

بہت حسیں رات ہے مگر تم تو سو رہے ہونکل کے کمرے سے اک نظر چاندنی تو دیکھو

جگہ جگہ سیل کے یہ دھبے یہ سرد بسترہمارے کمرے سے دھوپ کی بے رخی تو دیکھو

دمک رہا ہوں ابھی تلک اس کے دھیان سے میںبجھے ہوئے اک خیال کی روشنی تو دیکھو

یہ آخری وقت اور یہ بے حسی جہاں کیارے مرا سرد ہاتھ چھو کر کوئی تو دیکھو

ابھی بہت رنگ ہیں جو تم نے نہیں چھوئے ہیںکبھی یہاں آ کے گاؤں کی زندگی تو دیکھو

— شارق کیفی