8 اشعار

کہیں نہ تھا وہ دریا جس کا ساحل تھا میں

kahin na tha wo dariya jis ka sahil tha main

کہیں نہ تھا وہ دریا جس کا ساحل تھا میںآنکھ کھلی تو اک صحرا کے مقابل تھا میں

حاصل کر کے تجھ کو اب شرمندہ سا ہوںتھا اک وقت کہ سچ مچ تیرے قابل تھا میں

کس احساس جرم کی سب کرتے ہیں توقعاک کردار کیا تھا جس میں قاتل تھا میں

کون تھا وہ جس نے یہ حال کیا ہے میراکس کو اتنی آسانی سے حاصل تھا میں

ساری توجہ دشمن پر مرکوز تھی میریاپنی طرف سے تو بالکل ہی غافل تھا میں

جن پر میں تھوڑا سا بھی آسان ہوا ہوںوہی بتا سکتے ہیں کتنا مشکل تھا میں

نیند نہیں آتی تھی سازش کے دھڑکے میںفاتح ہو کر بھی کس درجہ بزدل تھا میں

گھر میں خود کو قید تو میں نے آج کیا ہےتب بھی تنہا تھا جب محفل محفل تھا میں

— شارق کیفی