5 اشعار

ایسا کرتے ہیں صبح ٹالتے ہیں

aisa karte hain subh Talte hain

ایسا کرتے ہیں صبح ٹالتے ہیںدن کسی اور دن نکالتے ہیں

ویسے خود کو بھی تھام لیں تو بہتپی کے سارا جہاں سنبھالتے ہیں

ہم کو واپس کریں ہمارا گلاببھیڑ کی سمت کیوں اچھالتے ہیں

مل ہی جاتی ہے کوئی کام کی شےبیٹھ کے خود کو جب کھنگالتے ہیں

واپسی کا کوئی ارادہ نہیںیوں بھی سب واپسی پہ ٹالتے ہیں

— شارق کیفی