6 اشعار

یہ کہہ کے اور مرا صبر آزمایا گیا

sadr-e-ali-maqam hone se

یہ کہہ کے اور مرا صبر آزمایا گیاوہ راہ پر تھا مجھے راستے پہ لایا گیا

پتہ تھا کوئی کسی کو نہیں منائے گاسو اختلاف زیادہ نہیں بڑھایا گیا

اب اس خیال نے نیندیں حرام کر دی ہیںوہ کوئی تھا بھی جسے عمر بھر بھلایا گیا

کچھ ایسی کیفیت وجد تھی کہ پھر ہم سےتماشبیں کے لئے کچھ نہیں بچایا گیا

خیال آیا کہ بے چہرگی ہی اچھی تھیکبھی یہ چہرہ اگر کام میں بھی لایا گیا

تو جانیے کہ یہ صحرا یہ دشت سب بے کاراگر جنوں کو تماشہ نہیں بنایا گیا

— شارق کیفی