7 اشعار

عجب شکست کا احساس دل پہ چھایا تھا

ajab shikast ka ehsas dil pe chhaya tha

عجب شکست کا احساس دل پہ چھایا تھاکسی نے مجھ کو نشانا نہیں بنایا تھا

اسی نگاہ نے آنکھوں کو کر دیا پتھراسی نگاہ میں سب کچھ نظر بھی آیا تھا

یہاں تو ریت ہے پتھر ہیں اور کچھ بھی نہیںوہ کیا دکھانے مجھے اتنی دور لایا تھا

الجھ گیا ہوں کچھ ایسا کہ یاد بھی تو نہیںیہ وہم پہلے پہل کیسے دل میں آیا تھا

وہ میں نہیں تھا تمہاری طرف سرکتا ہواہوس نے تیرگی کا فائدہ اٹھایا تھا

بچھڑنا اتنا ہی آسان تھا اگر اس سےتو خودکشی کا یہ سامان کیوں جٹایا تھا

گلا تو آج بھی سچائی ہے مگر شارقؔیہ جھوٹ اس سے میں پہلے ہی بول آیا تھا

— شارق کیفی