5 اشعار

نگاہ نیچی ہوئی ہے میری

nigah nichi hui hai meri

نگاہ نیچی ہوئی ہے میرییہ ٹوٹنے کی گھڑی ہے میری

پلٹ پلٹ کر جو دیکھتا ہوںکوئی صدا ان سنی ہے میری

یہ کام دونوں طرف ہوا ہےاسے بھی عادت پڑی ہے میری

تمام چہروں کو ایک کر کےعجیب صورت بنی ہے میری

وہیں پہ لے جائے گی یہ مٹیجہاں سواری کھڑی ہے میری

— شارق کیفی