9 اشعار

انا کا کون سا چہرہ تھا وہ

ana ka kaun sa chehra tha wo

انا کا کون سا چہرہ تھا وہمیں یہ سمجھ پایا نہیں ہوں آج تک

خبر یہ آئی تھیطبیعت رات سے بہتر ہے کچھ اس وقت ان کی

مجھے یہ بات سن کر تو خوشی سے جھوم اٹھنا چاہیے تھامگر میں چپ کھڑا تھا

یہ شاید وہ نہیں تھا جو میں سننا چاہتا تھاتو کیا اس خاص پل میں

میں ان کی موت کا خواہاں تھااور وہ بھی اس ذرا سی بات پر

کہ میں نے رات یوں ہی دوستوں کے بیچ میں یہ کہہ دیا تھامجھے آثار کچھ اچھے نہیں لگتے

سویرے تک بھی یہ زندہ اگر رہ جائیں تو جانوکہا پورا نہ ہونے کی مری

بے عزتیکسی کی جان سے بڑھ کر بھی ہو سکتی ہے

مجھ کو یہ نہیں معلوم تھا

— شارق کیفی