7 اشعار

اپنے تماشے کا ٹکٹ

apne tamashe ka ticket

یہ خواہش توہمارے شہر کے چڑیا گھروں کے شیر بھی شاید نہیں کرتے

کہ ساتھی شیر ان کو دیکھنے آئیںٹکٹ لے کر تماشے کی طرح

تماشا بن کے یہ جینے کی مجبوریکہیں شرمندگی کی شکل میں منہ پر چھپی رہتی ہیں ان کے

مگر انسان؟اس کا بس نہیں چلتا

کہ سر کے بل کھڑے ہو کر توجہ کھینچ لے سب کیوہی انساں

جو خود کو اشرف و افضل سمجھتا ہےاگر ممکن ہو تو

اپنے تماشے کے ٹکٹخود اپنے ہاتھوں دوسروں کو بیچ سکتا ہے

— شارق کیفی