8 اشعار

بہروپیا

bahrupiya

انوکھا اور نیا غم شرط ہے کوئیتمہارے خودکشی کرنے کی

تو پھر بھول جاؤیہاں تو بس وہی غم ہیں

پرانے غمکہ جن سے کام یہ دنیا چلاتی آ رہی ہے

مگر تم ہو کہ ہنس دیتے ہو ان پراگر یہ غم تمہیں غم ہی نہیں لگتے

کہ محبوبہ تمہاری بے وفا ہےکہ وہ بچہ

چھٹی جس کی منانا تھی تمہیں آجناک میں ہے آکسیجن ٹیوب اس کے

تو پھر یہ گولیاں سلفاس کی بیکار میں تم جیب میں رکھے ہوئے ہوانہیں جا کر اسی کٹھیا میں رکھ آؤ

کہ جس میں کل ہی تم نے سال بھر کے واسطے گیہوں بھرا ہے

— شارق کیفی