12 اشعار

بات پھانسی کے دن کی نہیں

baat phansi ke din ki nahin

آکسیجن کی ٹیوباور پھانسی کے پھندے میں ویسے بھی کیا فرق ہے

بات پھانسی یا پھانسی کے دن کی نہیںموت کی بھی نہیں

بات تو لاش کے مضحکہ خیز لگنے کی ہےفکر لاشے کی ہے

جانے کیسی لگے؟ایک فٹ لمبی پتلی سی گردن

مرے اتنے بھاری بدن پراور زباں؟

وو جو سنتے ہیں اتنی نکل آئے گی منہ کے باہرکالی مائی کی صورت

کہیں وو ڈرا تو نہیں دے گی بچوں کو میرےاور وہ سب نیک انسان جو غسل دیں گے مرے جسم کو

سو بھی پائیں گے کیا چین سے؟یا مرا بھوت ان کو ڈراتا رہے گا مہینوں تلک

میں نہیں چاہتا کوئی مجھ سے ڈرےکوئی مجھ پر ہنسے

زندگی اک لطیفے کی صورت کٹی کچھ شکایت نہیںہاں مگر

لاش کی شکل میں مضحکہ خیز لگنے سے ڈرتا ہوں میںبات اتنی سی ہے

بات پھانسی یا پھانسی کے دن کی نہیں

— شارق کیفی