5 اشعار

بات کرتے تھے اور پتھر تھے

baat karte the aur patthar the

بات کرتے تھے اور پتھر تھےلوگ باہر نہیں تھے اندر تھے

پیچھے پیچھے جو چل رہے تھے مرےوہ تماشائی تھے کہ بے گھر تھے

سارا گھر سو رہا تھا آنگن میںکیسے ترتیب وار بستر تھے

رات چھوٹی بڑی تو ہوتی تھیخواب سب نیند کے برابر تھے

یہ تو لکھنے کو مجھ سے چھوٹ گیابیچ میں جنگ کے بھی منظر تھے

— شارق کیفی