7 اشعار

وار پر وار کر رہا ہوں میں

war par war kar raha hun main

وار پر وار کر رہا ہوں میںکچھ زیادہ ہی ڈر گیا ہوں میں

کوئی مجبور ہی گزرتا ہےایسا ویران راستہ ہوں میں

اف اداسی یہ میری آنکھوں کیکس قدر جھوٹ بولتا ہوں میں

یہ تو مجھ پر تری نہیں سے کھلاکتنا آسان فیصلہ ہوں میں

یار سب اٹھ کے جا چکے لیکناپنے سر سے نہیں ٹلا ہوں میں

آنکھ کھلنے سے دفن ہونے تکجانے کس کس کا مسئلہ ہوں میں

وقت کی گہری کھائی ہے نیچےاور کنارے ہی پہ کھڑا ہوں میں

— شارق کیفی