7 اشعار

جشن تجھے ٹھکرا کر ہو گا

jashn tujhe Thukra kar hoga

جشن تجھے ٹھکرا کر ہو گارونا دھونا گا کر ہو گا

سچ جو کام نہیں کر پایاجھوٹی خبر اڑا کر ہو گا

اوڑھ کے سونے والا اندھیرااپنی دھوپ کما کر ہو گا

بیٹھ کے سوچو حل مشکل کاکیا کمرہ پھیلا کر ہو گا

کیوں جائز ہے قتل ہمارایہ ہم کو سمجھا کر ہو گا

جس کی خاک سے ہم پیدا ہیںغسل اسے دفنا کر ہو گا

مرنے سے گھبرا تو رہا ہوںلیکن کیا گھبرا کر ہو گا

— شارق کیفی