7 اشعار

بات رکھنے کا موقع دیا جائے گا

baat rakhne ka mauqa diya jaega

بات رکھنے کا موقع دیا جائے گابھیڑ اٹھ جائے گی تب کہا جائے گا

نوجوانوں سے رشتہ بناؤں گا پھررات بھر گھر سے باہر رہا جائے گا

پھر سے بیٹھوں گا تسنیم کی ٹال پرپھر پڑوسی سے جھگڑا کیا جائے گا

وہ جو اک یار ہے اپنے بچپن کا یاراس کے گھر بھی کسی دن رکا جائے گا

ایک دم کٹ گیا ہوں محلے سے میںپھر سے شادی ولیمہ کیا جائے گا

اتنی جلدی بھی کیا ہے شفا کی تمہیںوقت آنے پہ اچھا کیا جائے گا

ساری نظریں کنارے پہ رہ جائیں گیایک سر جھیل میں ڈوبتا جائے گا

— شارق کیفی