5 اشعار

کچھ یوں بھی مرا گھر سے نکلنا نہیں ہوتا

kuchh yun bhi mera ghar se nikalna nahin hota

کچھ یوں بھی مرا گھر سے نکلنا نہیں ہوتاجانے سے مرے کوئی اکیلا نہیں ہوتا

انسان کی اتنی تو سمجھ ہو ہی گئی ہےدوبارہ کسی سے مرا جھگڑا نہیں ہوتا

اک رات کی تکلیف نے سمجھا دیا مجھ کوخدمت سے بڑا کوئی دکھاوا نہیں ہوتا

خوش ہے وہ توجہ سے اسے یہ نہیں معلومسنتے ہیں وہی ہم جو سمجھنا نہیں ہوتا

جو پوچھ رہے ہیں میں انہیں کیسے بتاؤںتیار کا مطلب کہیں جانا نہیں ہوتا

— شارق کیفی