6 اشعار

عشق کو جتنا بھی سمجھا ہم نے

baat ye zehn mein uske bhi to aa sakti hai

عشق کو جتنا بھی سمجھا ہم نےبے وفائی میں ہی سمجھا ہم نے

آنکھ کھلنے کو کرامت جاناصبح کو واپسی سمجھا ہم نے

وصل کے بعد کیا وصل پہ غورہجر کو پیشگی سمجھا ہم نے

وہ جو پہلے سے پتہ تھا ہم کودوسروں سے وہی سمجھا ہم نے

ہر پلک پہلی تھی جھپکائی جوسانس کو آخری سمجھا ہم نے

آج انکار کیا جاننے سےآج کچھ واقعی سمجھا ہم نے

— شارق کیفی