6 اشعار

تھکن اوروں پہ حاوی ہے مری

ishq ko jitna bhi samjha humne

تھکن اوروں پہ حاوی ہے مریرہائی اب ضروری ہے مری

بہت سنجیدگی درکار ہےہنسی بھی چھوٹ سکتی ہے مری

مجھے جینے نہیں دیتا کوئیسبھی کو جان پیاری ہے مری

اسے میں بھول سکتا ہوں مگرانا مجروح ہوتی ہے مری

وہی تو آج دشمن ہیں مرےجنہوں نے بات مانی ہے مری

اگر اب ساتھ ہیں تو کیا ہواہنسی سب نے اڑائی ہے مری

— شارق کیفی