6 اشعار

بات یہ ذہن میں اس کے بھی تو آ سکتی ہے

lagi jo der mujhe aapko manane mein

بات یہ ذہن میں اس کے بھی تو آ سکتی ہےبے وفائی کی ہوا تازگی لا سکتی ہے

اب تو یہ سوچتی ہے میری توجہ طلبیموت ہی گھر پہ مرے بھیڑ لگا سکتی ہے

مسئلہ یہ ہے کہ دن رات ہمیں فرصت ہےاور فرصت بڑی تفصیل میں جا سکتی ہے

ڈوبنے بھر کا تو پانی نہیں اس میں لیکنیہ ندی اب بھی مری پیاس بجھا سکتی ہے

مشورے مانگنا بے کار ہے خاموشی سےبس یہ آواز میں آواز ملا سکتی ہے

عام انسان ہوں کمزور ہیں اعصاب مرےکوئی بھی دل شکنی مجھ کو رلا سکتی ہے

— شارق کیفی