6 اشعار

بڑا ہے دکھ سو حاصل ہے یہ آسانی مجھے

baDa hai dukh so hasil hai ye aasani mujhe

بڑا ہے دکھ سو حاصل ہے یہ آسانی مجھےکہ ہمت ہی نہیں کچھ یاد کرنے کی مجھے

چلا آتا ہے چپکے سے رضائی میں مریبری لگتی ہے سورج کی یہ بے باکی مجھے

چھپاتا پھر رہا ہوں خود کو میں کس سے یہاںاگر پہچاننے والا نہیں کوئی مجھے

گزر جائے گی ساری زندگی امید میںنہ جینے دے گی یہ جینے کی تیاری مجھے

اگر کم بولتا ہوں میں تو کیوں بے چین ہوتمہیں سے تو لگی ہے چپ کی بیماری مجھے

اچانک کچھ ہوا ہوتا تو کوئی بات تھینہ جانے کیوں ہوئی اس درجہ حیرانی مجھے

— شارق کیفی