6 اشعار

کہاں سوچا تھا میں نے بزم آرائی سے پہلے

kahan socha tha maine bazm-arai se pahle

کہاں سوچا تھا میں نے بزم آرائی سے پہلےیہ میری آخری محفل ہے تنہائی سے پہلے

بس اک سیلاب تھا لفظوں کا جو رکتا نہیں تھایہ ہلچل سطح پہ رہتی ہے گہرائی سے پہلے

بہت دن ہوش مندوں کے کہے کا مان رکھامگر اب مشورہ کرتا ہوں سودائی سے پہلے

فقط رنگوں کے اس جھرمٹ کو میں سچ مان لوں کیاوہ سب کچھ جھوٹ تھا دیکھا جو بینائی سے پہلے

کسی بھی جھوٹ کو جینا بہت مشکل نہیں ہےفقط دل کو ہرا کرنا ہے سچائی سے پہلے

یہ آنکھیں بھیڑ میں اب تک اسی کو ڈھونڈتی ہیںجو سایا تھا یہاں پہلے تماشائی سے پہلے

— شارق کیفی