12 اشعار

بارات کا گھوڑا

baraat ka ghoDa

خداتو نے مجھے گھوڑا بنایا تو

مگر بارات کاجس کے آگے ناچتے رہتے ہیں لوگ

نوٹ دانتوں میں دبائےکیا نظر میں ہیں تری وہ ظلم

جو مجھ پر ہوئے ہیں اس کرم کی آڑ میںریس کے میدان کے بدلے

کسی منڈپ تلک کا یہ سفرکتنا تھکا دیتا ہے مجھ کو

کیا تجھے معلوم ہےکیا تجھے معلوم ہے دولہے کا بوجھ

اس کو بیٹھانے کی ذمہ داریاںاور اس پر اس قدر حساس دل

جو سمجھ سکتا ہے اس دن کے معانی کیا ہیں دولہے کے لیےکوئی کیسا بھی پٹاخہ چھوڑ دے پیروں میں میرے

شور سے باجے کے میرے کان بھی پھٹ جائیں تو کیاچال میں اپنی ذرا سا فرق میں آنے نہ دوں گا

پیٹھ پر بیٹھے ہوئے دولہے کی عزت میری عزتہاں مگر یہ بھی خیال آتا ہے اکثر

میں تو ہر ذلت اٹھا کراپنی ذمہ داریاں پوری کروں گا اور کرتا آ رہا ہوں

تو مگر کب اس طرح سوچے گا اس مخلوق کے بارے میںجو تیری اماں میں ہے

— شارق کیفی