11 اشعار

کسی کے سمجھ دار ہونے تک

kisi ke samajhdar hone tak

قبر کیا ڈھونڈنامٹ گئے ہوں گے اس کے نشاں

کہیں بھی جلا کر لگا دوں اگربتیاںمدتوں بعد بھی

ورد کرتے ہوئے سورۂ فاتحہ کا وہی گونج کانوں میں ہےترا باپ کیا روز پیتا ہے

افوہ جو شرمندگی کا سبب ہو بھلا اس سے کیسی محبت

اور ویسے بھیایک بچہ کی نفرت سے سچا کوئی اور جذبہ نہیں

دفن کے وقت بھی تو میں دل میں کہیں ان سے ناراض تھامگر آج خود جب میں اس عمر میں ہوں

جو پاپا کی شاید رہی ہوگی تبجب میں روٹھا تھا ان سے

مرے دل میں احساس جرم اور شرمندگی کے سوا کچھ نہیںآپ سن تو رہے ہیں نہ پاپا

معافی مجھے چاہئےکیا یہ ممکن ہے

پھر خود سے کہتا ہوں شاید نہیںوہ گئے

کوئی رکتا نہیں ہے کسی کے سمجھ دار ہونے تلکسچ کی تہہ میں اترنے کے لائق گنہ گار ہونے تلک

— شارق کیفی