7 اشعار

برابر جسم کو دھمکا رہی ہے

barabar jism ko dhamka rahi hai

برابر جسم کو دھمکا رہی ہےہماری موت کہہ کر آ رہی ہے

چلو تھوڑا بہت تو سو لیے ہممگر اب اور سستی چھا رہی ہے

محلے بھر کی خاموشی کا مطلبمری آواز باہر جا رہی ہے

اداسی کر رہی ہے اپنا عادیابھی شرطیں نہیں منوا رہی ہے

سمجھ لو ہو چکا ہے کام آساںاگر وہ مشکلیں گنوا رہی ہے

جسے نادان سمجھا تھا وہ لڑکیبڑی مشکل سے دھوکا کھا رہی ہے

ہمیں اس جنگ کو ہارے نہیں ہیںتمہاری سلطنت بھی جا رہی ہے

— شارق کیفی