7 اشعار

برسوں جنوں صحرا صحرا بھٹکاتا ہے

barson junun sahra sahra bhaTkata hai

برسوں جنوں صحرا صحرا بھٹکاتا ہےگھر میں رہنا یوں ہی نہیں آ جاتا ہے

پیاس اور دھوپ کے عادی ہو جاتے ہیں ہمجب تک دشت کا کھیل سمجھ میں آتا ہے

عادت تھی سو پکار لیا تم کو ورنہاتنے کرب میں کون کسے یاد آتا ہے

موت بھی اک حل ہے تو مسائل کا لیکندل یہ سہولت لیتے ہوئے گھبراتا ہے

اک تم ہی تو گواہ ہو میرے ہونے کےآئینہ تو اب بھی مجھے جھٹلاتا ہے

اف یہ سزا یہ تو کوئی انصاف نہیںکوئی مجھے مجرم ہی نہیں ٹھہراتا ہے

کیسے کیسے گناہ کئے ہیں خوابوں میںکیا یہ بھی میرے ہی حساب میں آتا ہے

— شارق کیفی