8 اشعار

طرح طرح سے مرا دل بڑھایا جاتا ہے

tarah tarah se mera dil baDhaya jata hai

طرح طرح سے مرا دل بڑھایا جاتا ہےمگر کہے سے کہیں مسکرایا جاتا ہے

ابھی میں سوچ رہا تھا کہ کچھ کہوں تجھ سےکہ دیکھتا ہوں ترا گھر سجایا جاتا ہے

گناہ گاروں میں بیٹھے تو انکشاف ہواخدا سے اب بھی بہت خوف کھایا جاتا ہے

نئے نئے وہ اداکار جانتے ہی نہ تھےکہ پردہ گرتے ہی سب بھول جایا جاتا ہے

توقعات کا یوں بھی خیال رکھتا ہوںبڑے یقیں سے مجھے آزمایا جاتا ہے

تمام عمر ملائی جنوں کی تال سے تالیہ گیت سب سے کہاں گنگنایا جاتا ہے

اب اس طرح کی محبت کبھی نہ ہو شایدکہ درمیاں میں کہیں جسم آیا جاتا ہے

سمجھ میں آئے نہ آئے یہ کچھ ہوا ہے ضروریقیں جو تجھ پہ مرا ڈگمگایا جاتا ہے

— شارق کیفی