6 اشعار

بستی بری نہیں یہ ہمارے قیاس میں

basti buri nahin ye hamare qayas mein

بستی بری نہیں یہ ہمارے قیاس میںاچھی ہیں لڑکیاں بھی یہاں آس پاس میں

وحشت میں کچھ زیادہ ہی چھلکا دیا اسےپورا ڈھلا نہیں وہ ہمارے گلاس میں

ہر وقت زندگی کا اڑاتے بھی ہیں مذاقاور ڈھیر سی دوائیں بھی رکھتے ہیں پاس میں

اس موت کی مہک کو چھپائیں تو کس طرحکافور کی بسی ہے ہمارے لباس میں

بے خوف مل کہ اب کوئی خطرہ نہیں رہاٹھہراؤ آ گیا ہے ترے دیوداس میں

مدت کے بعد صحرا پہ چھایا تھا کوئی ابرگھبرا گئے جو تھوڑی کمی آئی پیاس میں

— شارق کیفی