7 اشعار

مضحکہ خیز یہ کردار ہوا جاتا ہے

mazhaka-KHez ye kirdar hua jata hai

مضحکہ خیز یہ کردار ہوا جاتا ہےوہ جو عاشق تھا اداکار ہوا جاتا ہے

گفتگو کر کے پریشاں ہوں کہ لہجے میں ترےوہ کھلا پن ہے کہ دیوار ہوا جاتا ہے

کھیل ہے اس کے لیے ترک تعلق کا خیالاور کوئی سوچ کے بیمار ہوا جاتا ہے

فرق اتنا تو پڑا ہے کہ ملاقات کے دناب ذرا دیر سے تیار ہوا جاتا ہے

ایک ہی جیسے ہیں ہم سب کے مسائل شایدمیرا غم سب کا سروکار ہوا جاتا ہے

ہم تو لہروں سے فقط کھیلنے آئے تھے یہاںاور سمندر ہے کہ بیدار ہوا جاتا ہے

نیند پر جتنے کڑے پہرے لگاتا ہوں میںخواب کا راستہ ہموار ہوا جاتا ہے

— شارق کیفی