7 اشعار

میہماں گھر میں بھرے رہے

mehaman ghar mein bhare rahe

میہماں گھر میں بھرے رہےدن بھر بستر کھلے رہے

میرے لیے کیا ہجر و وصالہاں گھر والے ڈرے رہے

اس نے بھی آواز نہ دیہم بھی ایسے بنے رہے

اتنی کون سمجھتا ہےمیرے دکھ ہی بڑے رہے

اتنے سال پرانے خواباب تک کیسے نئے رہے

چھو تو لیا پر ہاتھ اپنےدن بھر ڈھونڈے پڑے رہے

اک معصوم اشارے کےگھر گھر قصے چھڑے رہے

— شارق کیفی