11 اشعار

بے تکلف مرا ہیجان بناتا ہے مجھے

be-takalluf mera haijaan banata hai mujhe

بے تکلف مرا ہیجان بناتا ہے مجھےسامنے تیرے کہاں بولنا آتا ہے مجھے

وہ اداسی کہ بکھرنے سے نہیں بچ سکتااور ترا لمس کہ چنتا چلا جاتا ہے مجھے

اب مرے لوٹ کے آنے کا کوئی وقت نہیںیوں بھی اب گھر سے سوا کون بلاتا ہے مجھے

گیت ہی صرف لبوں پر ہو تو آ جائے بھی نیندوہ کوئی اور کہانی بھی سناتا ہے مجھے

قطع کر کے بھی تعلق وہ کہاں چین سے ہےاس کے اسباب و دلائل بھی گناتا ہے مجھے

خود سے وہ کون سے شکوے ہیں کہ جاتے ہی نہیںاپنے جیسوں پہ یقیں کیوں نہیں آتا ہے مجھے

اور اک بار ذرا چھیڑ مری روح کے تاران سروں میں تو کوئی اور بھی گاتا ہے مجھے

اک ترا درد ہے اچھے ہیں مراسم جس سےبس وہی ہے کہ جو پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھے

میں کسی دوسرے پہلو سے اسے کیوں سوچوںیوں بھی اچھا ہے وہ جیسا نظر آتا ہے مجھے

ہو سبب کچھ بھی مرے آنکھ بچانے کا مگرصاف کر دوں کہ نظر کم نہیں آتا ہے مجھے

ناخداؤں نے تو خوش فہمیاں بخشی ہیں فقطمیں ہوں خطرے میں یہ طوفاں ہی بتاتا ہے مجھے

— شارق کیفی