8 اشعار

دنیا شاید بھول رہی ہے

duniya shayad bhul rahi hai

دنیا شاید بھول رہی ہےچاہت کچھ اونچا سنتی ہے

جب چادر سر سے اوڑھی ہےموت سرہانے پر دیکھی ہے

اتنا سچا لگتا ہے وہدیکھو تو حیرت ہوتی ہے

قرب کی ساعت تو یاروں کوچپ کرنے میں گزر جاتی ہے

آؤ گلے مل کر یہ دیکھیںاب ہم میں کتنی دوری ہے

فیصلے اوروں کے کرتا ہوںاپنی سزا کٹتی رہتی ہے

یگ بیتے دنیا میں آئےسوچ وہی مہمانوں سی ہے

چلنا بھی اک عادت ہے بسساری تھکن آزادی کی ہے

— شارق کیفی