9 اشعار

سب آسان ہوا جاتا ہے

sab aasan hua jata hai

سب آسان ہوا جاتا ہےمشکل وقت تو اب آیا ہے

جس دن سے وہ جدا ہوا ہےمیں نے جسم نہیں پہنا ہے

کوئی دراڑ نہیں ہے شب میںپھر یہ اجالا سا کیسا ہے

برسوں کا بچھڑا ہوا سایہاب آہٹ لے کر لوٹا ہے

اپنے آپ سے ڈرنے والاکس پہ بھروسہ کر سکتا ہے

ایک محاذ پہ ہارے ہیں ہمیہ رشتہ کیا کم رشتہ ہے

قرب کا لمحہ تو یاروں کوچپ کرنے میں گزر جاتا ہے

سورج سے شرطیں رکھتا ہوںگھر میں چراغ نہیں جلتا ہے

دکھ کی بات تو یہ ہے شارقؔاس کا وہم بھی سچ نکلا ہے

— شارق کیفی