4 اشعار

بھیڑ میں جب تک رہتے ہیں جوشیلے ہیں

bhiD mein jab tak rahte hain joshile hain

بھیڑ میں جب تک رہتے ہیں جوشیلے ہیںالگ الگ ہم لوگ بہت شرمیلے ہیں

خواب کے بدلے خون چکانا پڑتا ہےآنکھوں کے یہ کھیل بڑے خرچیلے ہیں

بینائی بھی کیا کیا دھوکے دیتی ہےدور سے دیکھو سارے دریا نیلے ہیں

صحرا میں بھی گاؤں کا دریا ساتھ رہادیکھو میرے پاؤں ابھی تک گیلے ہیں

— شارق کیفی