6 اشعار

کہتا ہے کار عشق میں مر جانا چاہئے

bich-bachaw karne bahar jaya jae

کہتا ہے کار عشق میں مر جانا چاہئےاس خوش گماں کو آپ سے ملوانا چاہئے

جھپکائے جو نہ آنکھ ریہرسل کے وقت بھیایسے تماشبین سے گھبرانا چاہئے

اپنے سیاہ بال دکھاؤں کہ سرخ گالاتنا تو موت کو بھی نظر آنا چاہئے

وحشی کوئی ملے تو کروں اس سے مشورہصحرا میں کتنی زور سے چلانا چاہئے

خواہش تو ہے مگر نہیں طاقت گناہ کییعنی کہ وقت آ گیا پچھتانا چاہئے

کیوں دشت بار بار مجھے بھیجتے ہیں آپبازار نام کا کئی ویرانہ چاہئے

— شارق کیفی