6 اشعار

بیچ بچاؤ کرنے باہر جایا جائے

kahta hai kar-e-ishq mein mar jaana chahiye

بیچ بچاؤ کرنے باہر جایا جائےدیواروں سے کب تک جھگڑا دیکھا جائے

اک میں ہوں بس عام سا قیدی کیا میریاک وہ ہے جو تیرے ہاتھوں پکڑا جائے

ساتھ سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہےلیکن منظر اپنا اپنا دیکھا جائے

چارہ گر بھی تو ہے میرا قاتل بھی توپہلے تیرے کس چہرے کو رویا جائے

سب سے زیادہ اترائے جو عشق پہ اپنےاس کو دنیا دار بنا کر مارا جائے

صحرا کا وارث ہونا تو ٹھیک ہے لیکناس کمرے کو کس کے بھروسے چھوڑا جائے

— شارق کیفی