8 اشعار

بچھڑ کر ہم اسی کے حق میں اچھا کر رہے تھے

bichhaD kar hum usi ke haq mein achchha kar rahe the

بچھڑ کر ہم اسی کے حق میں اچھا کر رہے تھےمگر اس کو یہ لگتا تھا کہ دھوکہ کر رہے تھے

ذرا سا فاصلہ بھی اک مصیبت ہو گیا تھاکہ ہم ہر موڑ پر آرام اتنا کر رہے تھے

محبت کو ابھی رونے کا وقت آیا نہیں تھاابھی ہم دوسری باتوں پہ جھگڑا کر رہے تھے

خدا جانے یہ نیکی تھی کہ خود غرضی ہماریبدل اپنا عبادت میں مہیا کر رہے تھے

جہاں والوں کو تم اپنی صفائی میں نہ لاناجہاں والے تو مجھ پر بھی بھروسہ کر رہے تھے

بڑی سنجیدگی کے ساتھ اسٹیشن پہ اترےوہی لڑکے جو رستہ بھر تماشہ کر رہے تھے

جہاں پر حکمرانی صرف تیرے درد کی تھیوہاں اب دوسرے غم بھی علاقہ کر رہے تھے

کئی بیمار اتنے بے تکلف تھے کہ شارقؔہمیں بھی ساتھ چلنے کا اشارہ کر رہے تھے

— شارق کیفی