7 اشعار

پتہ ہے آشنا دنیا ہے تم سے

pata hai aashna duniya hai tum se

پتہ ہے آشنا دنیا ہے تم سےمگر میرا بھی کچھ رشتہ ہے تم سے

نمی سی آنکھ میں رہتی ہے ہر دمیہ صحرا آج بھی دریا ہے تم سے

نگاہوں سے کبھی اوجھل نہ ہوناکوئی اپنی خبر رکھتا ہے تم سے

بہت مقبول ہیں کچھ جھوٹ میرےانہیں میں ایک وابستہ ہے تم سے

کہو لب سے اگر انکار بھی ہےمجھے شاید یہی سننا ہے تم سے

ذرا سا پیار ہی تو چاہتا ہوںبتاؤ اور کیا جھگڑا ہے تم سے

بھروسہ اٹھ گیا لفظوں سے میرامجھے اب کچھ نہیں کہنا ہے تم سے

— شارق کیفی