7 اشعار

سب یار مرے خوب کمانے میں لگے تھے

sab yar mere KHub kamane mein lage the

سب یار مرے خوب کمانے میں لگے تھےہم پچھلی کمائی کو لٹانے میں لگے تھے

وہ چھت بھی گئی سر سے جو دنیا تھی ہماریہم کون سی دنیا کو بچانے میں لگے تھے

رونے کو جنہیں آج سجائی ہے یہ محفلاچھے وہ کسی اور زمانہ میں لگے تھے

کس سچ کا انہیں سامنا کرنے سے تھا انکارکیوں لوگ مرا جھوٹ چھپانے میں لگے تھے

معصوم تھے اتنے کہ جدا ہونے کے دن بھیپھولوں سے ترے گھر کو سجانے میں لگے تھے

بیٹھے تھے سبھی دل کے دریچوں کو کیے بنداور گھر کو ہوا دار بنانے میں لگے تھے

میں کس کو وہاں قید کی روداد سناتاسب اپنے گرفتار گنانے میں لگے تھے

— شارق کیفی